حدیث نمبر: 8351
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ مُرٌّ طَعْمُهَا وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ مُرٌّ طَعْمُهَا وَلَا رِيحَ لَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرنے والے مومن کی مثال نارننگی کی مانند ہے، اس کا ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے، تلاوت نہ کرنے والے مومن کی مثال کھجور کی مانند ہے، اس کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی، تلاوت کرنے والے فاجر کی مثال نیاز بو کی مانند ہے، اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، لیکن خوشبو اچھی ہوتی ہے اور تلاوت نہ کرنے والے فاجر کی مثال اندرائن کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتاہے اور خوشبو بھی نہیں ہوتی۔

وضاحت:
فوائد: … یہ قرآن مجید کی پاکیزگی ہے، چاروں مثالوں پر غور کر کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8351
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5020، 7560، ومسلم: 797 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19843»