حدیث نمبر: 8350
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں بھی جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کو باہم مل کر پڑھتے ہیں، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے،رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ان ہستیوں میں ذکر کرتاہے، جو اس کے پاس ہیں، اور جس کے عمل نے اس کو پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔

وضاحت:
فوائد: … اس میں تلاوت ِ قرآن کے اجتماع کی فضیلت کا بیان ہے، لیکن ساتھ ساتھ یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ حسب و نسب کوئی باعث ِ امتیاز چیز نہیں ہے، اگر عملِ صالح نہ ہوا تو نسب کوئی فائدہ نہیں دے گا، جبکہ ہمارامعاشرہ اس وقت مال اور نسب کو ترجیح دینے کی لپیٹ میں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8350
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2699 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7427 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7421»