الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بابٌ فِي أَرْكَانِ الإِسْلامِ وَدَعَائِمِهِ الْعِظَامِ باب: اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
عَنِ السَّدُوسِيِّ يَعْنِي ابْنَ الْخَصَاصِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ أُقِيمَ الصَّلَاةَ وَأَنْ أُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ وَأَنْ أَحُجَّ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَصُومَ شَهْرَ رَمَضَانَ وَأَنْ أُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمَّا اثْنَتَانِ فَوَاللَّهِ مَا أُطِيقُهُمَا الْجِهَادُ وَالصَّدَقَةُ، فَإِنَّهُمْ زَعَمُوا أَنَّ مَنْ وَلَّى الدُّبُرَ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ فَأَخَافُ إِنْ حَضَرَتْ تِلْكَ جَشِعَتْ نَفْسِي وَكَرِهَتِ الْمَوْتَ، وَالصَّدَقَةُ فَوَاللَّهِ مَا لِي إِلَّا غُنَيْمَةٌ وَعَشْرُ ذَوْدٍ، هُنَّ رِسْلُ أَهْلِي وَحُمُولَتُهُمْ، قَالَ: فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ يَدَهُ ثُمَّ حَرَّكَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ: ((فَلَا جِهَادَ وَلَا صَدَقَةَ فَلِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِذًا؟)) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا أُبَايِعُكَ، قَالَ: فَبَايَعْتُ عَلَيْهِنَّ كُلِّهِنَّسیدنا ابن خصاصیہ سدوسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ شرطیں عائد کر دیں: ”یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حجۃ الاسلام ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ جو دو چیزیں جہاد اور زکوٰۃ ہیں ناں، ان کی مجھ میں طاقت نہیں ہے، کیونکہ جہاد کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ جو وہاں سے پیٹھ پھیر جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے ساتھ لوٹتا ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میدانِ جہاد میں میرا نفس گھبرا جائے اور موت کو ناپسند کرنے لگے اور رہا مسئلہ زکوٰۃ کا، تو اللہ کی قسم ہے کہ میرے پاس تھوڑی سی بکریاں ہیں اور دس اونٹ ہیں، میرے اہل کے لیے دودھ والے اور سواری والے یہی جانور ہیں۔“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو بند کیا اور اس کو حرکت دی اور فرمایا: ”اگر جہاد بھی نہ ہو اور زکوٰۃ بھی نہ ہو تو پھر تو جنت میں کیسے داخل ہو گا۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ٹھیک ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرتا ہوں،“ پھر میں نے ان سب امور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت و دانائی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر کوئی قبیلہ یا فرد مشرف باسلام تو ہونا چاہتا ہے، لیکن اسلام کے ایک دو اجزا یا شقوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، تو حکمت یہ ہے کہ دونوں گھروں کی مصلحت کا خیال رکھتے ہوئے اس امید پر اس کی شرطیں قبول کر لی جائیں کہ کچھ عرصہ تک ایمان و ایقان میں پختہ ہو کر اسلام کے ہر جزو اور شقّ کو تسلیم کر لے گا، مبلغینِ اسلام کا حکیم و دانا ہونا انتہائی ضروری ہے۔