حدیث نمبر: 828
عَنْ فَاطِمَةَ (الزَّهْرَاءِ) بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَرْضَاهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ عَرْقًا فَجَاءَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ فَقَامَ لِيُصَلِّي فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ! أَلَا تَتَوَضَّأْ؟ فَقَالَ: ((مِمَّ أَتَوَضَّأُ يَا بُنَيَّةُ؟)) فَقُلْتُ: مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، فَقَالَ لِي: ((أَوَلَيْسَ أَطْيَبُ طَعَامِكُمْ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ فاطمہ زہراءؓ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور ہڈی پر لگاہوا گوشت کھایا، اتنے میں سیدنا بلالؓ نماز کیلئے بلانے کیلئے آ گئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے کو پکڑ کر کہا: اے ابو جان! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹی! کس چیز سے میں وضو کروں؟ میں نے کہا: آگ پر پکے ہوئے کھانے کو کھانے سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تمہارا سب سے پسندیدہ کھانا وہی نہیں ہے، جس کو آگ پر پکایا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 828
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن بن الحسن بن علي بن ابي طالب لم يدرك جدته فاطمهؓ، ومحمد بن اسحاق مدلس، واختلف عليه۔ أخرجه ابويعلي: 6740 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26950»