الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 826
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ مَرْوَانَ قَالَ: تَوَضَّأُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، قَالَ: فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ: نَهَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي كَتِفًا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءًترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن شداد کہتے ہیں: جب سیدنا ابوہریرہؓ نے مروان کو یہ حدیث بیان کی کہ جس چیز کو آگ پر پکایا جائے، اس کو کھانے سے وضو کرو۔ مروان نے یہ سن کر سیدہ ام سلمہؓ کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: میرے پاس تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کندھے کا گوشت نوچا اور نماز کی طرف چلے گئے اور پانی کو چھوا تک نہیں۔