حدیث نمبر: 823
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ وَقَدْ كَانَ تَوَضَّأَ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ: ((وَرَاءَكَ)) فَسَاءَنِي وَاللَّهِ ذَلِكَ، ثُمَّ صَلَّى فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِ انْتِهَارُكَ إِيَّاهُ وَخَشِيَ أَنْ يَكُونَ فِي نَفْسِكَ عَلَيْهِ شَيْءٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَيْسَ عَلَيْهِ فِي نَفْسِي شَيْءٌ إِلَّا خَيْرٌ، وَلَكِنْ أَتَانِي بِمَاءٍ لِأَتَوَضَّأَ وَإِنَّمَا أَكَلْتُ طَعَامًا، وَلَوْ فَعَلْتُهُ فَعَلَ ذَلِكَ النَّاسُ بَعْدِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھایا، پھر نماز کیلئے اقامت کہہ دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کھانے سے پہلے وضو کر چکے تھے، میں پھر پانی لے آیا، (میرے خیال میں یہ تھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر وضو کریں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جھڑک دیا اور فرمایا: پیچھے ہٹ جا۔ اللہ کی قسم! یہ بات مجھ پر تو بڑی گراں گزری، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی، میں نے سیدنا عمرؓ کے سامنے اپنی شکایت رکھی (کہ آج میرے ساتھ یہ کچھ ہوا ہے)۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کا مغیرہ کو جھڑکنا، یہ چیز ان پر بڑی گراں گزری ہے اور وہ ڈر رہے ہیں کہ ان کے بارے میں آپ کے دل میں کوئی بات ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے دل میں ان کے بارے میں خیر کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ وہ میرے وضو کیلئے پانی لے آئے تھے، جبکہ میں نے تو صرف کھانا ہی کھایا تھا، اب اگر میں وضو کر دیتا تو میرے بعد لوگوں نے بھی کرنا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 823
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 48، والطبراني في الكبير : 20/ 1008، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18406»