الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 821
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوسًا فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوءٍ فَقَالَا: لِمَ تَتَوَضَّأُ؟ فَقُلْتُ: لِهَٰذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا، فَقَالَا: أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ؟ لَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں: میں، سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہم بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے گوشت اور روٹی پر مشتمل کھانا کھایا، پھر میں (انس) نے وضو کیلئے پانی منگوایا، ان دونوں نے مجھے کہا: تم کیوں وضو کرنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایا ہے، انھوں نے کہا: کیا تم پاکیزہ چیزیں کھانے کی وجہ سے وضو کرتے ہو؟ اس ہستی نے تو اس قسم کے کھانے کے بعد وضو نہیں کیا تھا، جو تم سے بہتر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … وضو کرنے یا نہ کرنے کا تعلق پاکیزہ چیزوں سے نہیں تھا، شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کرتے تھے، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عمل کو ترک کر دیا تھا۔