الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 820
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ نُعْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّحْبَاءِ وَصَلَّى الْعَصْرَ دَعَا بِالْأَطْعِمَةِ، فَمَا أُتِيَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا مَعَهُ وَمَا مَسَّ مَاءًترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سوید بن نعمان ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر والے سال رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب ہم صہباء مقَامَ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر ادا کی اور کھانا طلب کیا، صرف ستو لایا گیا، لوگوں نے کھایا اور پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کلی کر کے نمازِ مغرب کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم نے بھی کلی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (وضو کے لیے) پانی کو چھوا تک نہیں۔