الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُبْزٌ وَلَحْمٌ ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ عُمَرَ فَوُضِعَتْ لَهُ هَاهُنَا (قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: أَمَامَنَا) جَفْنَةٌ، فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ وَهَاهُنَا جَفْنَةٌ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَكَلَ عُمَرُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْسیدنا جابر بن عبد اللہؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: روٹی اور گوشت پر مشتمل کھانا رسو ل اللّٰہُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تناول فرمایا)، پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا او رنمازِ ظہر ادا کی، پھر واپس آ کر بچا ہوا کھانا منگوایا اور اس کو تناول فرمانے کے بعد پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا، پھر میں سیدنا عمر ؓ کے ساتھ داخل ہوا، ان کے لیے یہاں ہمارے سامنے ایک بڑا پیالَہُ رکھا گیا، اس میں روٹی اور گوشت تھا، وہ پیالَہُ یہاں رکھا گیا تھا، اس میں روٹی اور گوشت تھا، پس سیدنا عمر ؓ نے یہ کھانا کھایا اور پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا۔