حدیث نمبر: 817
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مِمَّ أَتَوَضَّأُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهُمَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا أُبَالِي مِمَّا تَوَضَّأْتَ، أَشْهَدُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ لَحْمٍ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّأَ، قَالَ: وَسُلَيْمَانُ حَاضِرٌ ذَلِكَ مِنْهُمَا جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابن عباسؓ نے سیدنا ابو ہریرہؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انھوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ میں کس چیز سے وضو کر رہا ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے کہا: میں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے تھے، ان کی وجہ سے وضو کر رہا ہوں۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا: مجھے اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں نے کس چیز سے وضو کرنا ہے، جبکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کندھے کا گوشت کھایا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے اٹھے اور وضو نہیں کیا۔ سلیمان ان دونوں شخصیتوں کے پاس موجود تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 817
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 1/ 108 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3464»