حدیث نمبر: 814
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَخُو بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِغَدِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ: وَكَانَتْ مَيْمُونَةُ قَدْ أَوْصَتْ لَهُ بِهِ فَكَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ بُسِطَ لَهُ فِيهِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِ فَجَلَسَ فِيهِ لِلنَّاسِ، قَالَ: فَسَأَلَهُ رَجُلٌ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ مِنَ الطَّعَامِ، قَالَ: فَرَفَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَدَهُ إِلَى عَيْنَيْهِ وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ فَقَالَ: بَصُرَ عَيْنَايَ هَاتَانِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ ثُمَّ دَعَاهُ بِلَالٌ إِلَى الصَّلَاةِ فَنَهَضَ خَارِجًا فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى بَابِ الْحُجْرَةِ لَقِيَتْهُ هَدِيَّةٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ، قَالَ: فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ وَوُضِعَتْ لَهُمْ فِي الْحُجْرَةِ، قَالَ: فَأَكَلَ وَأَكَلُوا مَعَهُ، قَالَ: ثُمَّ نَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا مَسَّ وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ مَاءً، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا عَقَلَ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آخِرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

محمد بن عمر کہتے ہیں: میں جمعہ کے اگلے دن سیدنا ابن عباسؓ کے پاس گیا، جو سیدہ میمونہؓ کے گھر میں تھے، سیدہ نے ان کے لیے اس گھر کی وصیت کی تھی، جب وہ نمازِ جمعہ ادا کر لیتے تو ان کے لیے اس گھر میں چٹائی وغیرہ بچھا دی جاتی، پس وہ اس گھر کی طرف چلے جاتے اور لوگوں کے لیے بیٹھ جاتے۔ ایک دن ایک بندے نے ان سے آگ پر پکے ہوئے کھانے سے وضو کرنے کے بارے میں سوال کیا، جبکہ میں سن رہا تھا۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کی طرف اٹھایا، جبکہ اِس وقت وہ نابینا ہو چکے تھے، اور کہا: میری ان آنکھوں نے دیکھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی حجرے میں وضو کیا، پھر سیدنا بلالؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا اور آپ نکل پڑے، لیکن جب حجرے کے دروازے پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روٹی اور گوشت کا ہدیہ وصول ہوا، جو کسی صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ والے صحابہ کے ساتھ واپس لوٹ گئے، حجرے میں یہ کھانا لگایاگیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کھایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی نے پانی کو چھوا تک نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ سیدنا ابْنِ عَبَّاسٍؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری عمل کو پایا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 814
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه مختصرا جدا مسلم: 354 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2377»