الفتح الربانی
كتاب اللهو واللعب— لہو و لعب کے بارے میں مسائل
بَابُ مَا جَاء فِي آلَةِ اللَّهْوِ وَ الْقَيْنَاتِ وَشُرْب الْخَسرِ باب: لہو کے آلات، گانے والیوں اور شراب کے پینے کا بیان
عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَعَدَلَ رَاحِلَتَهُ عَنِ الطَّرِيقِ وَهُوَ يَقُولُ يَا نَافِعُ أَتَسْمَعُ فَأَقُولُ نَعَمْ فَيَمْضِي حَتَّى قُلْتُ لَا فَوَضَعَ يَدَيْهِ وَأَعَادَ رَاحِلَتَهُ إِلَى الطَّرِيقِ وَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر ڈال لیں اور اپنی سواری راستے سے ہٹا کر دور لے گئے، (کچھ آگے جا کر) کہا: اے نافع! کیا تم آواز سن رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ جب میں نے کہا کہ اب آواز نہیں آ رہی، تب انھوں نے ہاتھ نیچے کیے اور اپنی سواری کو راستے پر ڈالا اور کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔