حدیث نمبر: 7893
عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَعَدَلَ رَاحِلَتَهُ عَنِ الطَّرِيقِ وَهُوَ يَقُولُ يَا نَافِعُ أَتَسْمَعُ فَأَقُولُ نَعَمْ فَيَمْضِي حَتَّى قُلْتُ لَا فَوَضَعَ يَدَيْهِ وَأَعَادَ رَاحِلَتَهُ إِلَى الطَّرِيقِ وَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر ڈال لیں اور اپنی سواری راستے سے ہٹا کر دور لے گئے، (کچھ آگے جا کر) کہا: اے نافع! کیا تم آواز سن رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ جب میں نے کہا کہ اب آواز نہیں آ رہی، تب انھوں نے ہاتھ نیچے کیے اور اپنی سواری کو راستے پر ڈالا اور کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … ایک بانسری کی آواز سے بچنے کے لیے نبی ٔ معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں صحابہ نے انداز اختیار کیا اور ہم الیکٹرانک میڈیا کے بہانے کن کن چکروں میں پڑھ چکے ہیں، صرف بچوں کے کارٹونوں کے بہانے ہمارے گھروں میں انتہائی ناپسندیدہ آوازیں اٹھ رہی ہوتی ہیں، شادیوں پر تو ہم بے غیرتی اور بے حسی کی انتہا کر دیتے ہیں، کیا بنے گا ہمارا؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللهو واللعب / حدیث: 7893
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4924، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4965 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4965»