الفتح الربانی
كتاب اللهو واللعب— لہو و لعب کے بارے میں مسائل
بَابُ مَا جَاء فِي آلَةِ اللَّهْوِ وَ الْقَيْنَاتِ وَشُرْب الْخَسرِ باب: لہو کے آلات، گانے والیوں اور شراب کے پینے کا بیان
حدیث نمبر: 7894
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَتَعْرِفِينَ هَذِهِ قَالَتْ لَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ هَذِهِ قَيْنَةُ بَنِي فُلَانٍ تُحِبِّينَ أَنْ تُغَنِّيَكِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَأَعْطَاهَا طَبَقًا فَغَنَّتْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَفَخَ الشَّيْطَانُ فِي مَنْخِرَيْهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تم اس کو پہچانتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بنو فلاں کی گانے والی لونڈی ہے، کیا تم پسند کرو گی کہ یہ گائے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایک تھال سا دیا، اس پر اس نے گایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونکا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونکا ہے اسی وجہ سے اس نے اس کو عادت بنا لی ہے، رہا مسئلہ کبھی کبھار، تو وہ جائز ہے، اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دینے اور اس گانے والی کی مذمت کرنے میں کوئی تضاد نہیں ہے، ذہن نشین کر لیں کہ اجازت دینے کا تعلق بعض اوقات سے ہے، جائز کلام سے ہے اور بے پردگی سے بچنے کی صورت سے ہے اور مذمت کا تعلق عادت سے ہے، بے ہودہ اور گندے کلام سے ہے اور بے پردگی سے ہے۔