الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بابٌ فِي أَرْكَانِ الإِسْلامِ وَدَعَائِمِهِ الْعِظَامِ باب: اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
عَنْ أَبِي سُوَيْدٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ: أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَلَسْنَا بِبَابِهِ لِيُؤْذَنَ لَنَا، قَالَ: فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا الْإِذْنُ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَى جُحْرٍ فِي الْبَابِ فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِيهِ فَفَطِنَ بِي، فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا فَقَالَ: أَيُّكُمُ اطَّلَعَ آنِفًا فِي دَارِي؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: بِأَيِّ شَيْءٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِي دَارِي، قَالَ: قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَيْنَا الْإِذْنُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ)) قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! مَا تَقُولُ فِي الْجِهَادِ؟ قَالَ: مَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِابو سوید عبدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف گئے اور ان کے دروازے پر اجازت کے انتظار میں بیٹھ گئے، جب ہم نے دیکھا کہ ہمیں اجازت دینے میں بہت تاخیر ہو گئی ہے تو میں دروازے میں موجود ایک سوراخ کی طرف اٹھا اور وہاں سے اندر کی طرف جھانکنے لگا، وہ سمجھ گئے اور ہمیں اجازت دے دی اور ہم ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا: ”تم میں سے کون ہے، جو ابھی میرے گھر میں جھانک رہا تھا؟“ میں نے کہا: ”میں تھا،“ انہوں نے کہا: ”تو نے کس دلیل کی روشنی میں میرے گھر میں جھانکنے کو حلال سمجھ لیا؟“ میں نے کہا: ”ہمیں اجازت دینے میں تاخیر کر دی گئی تھی، اس لیے میں نے دیکھ لیا، جان بوجھ کر تو میں نے نہیں کیا،“ پھر ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کرنے لگ گئے، انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ میں نے کہا: ”اے ابو عبدالرحمن! آپ جہاد کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”جو جہاد کرے گا، وہ اپنے لیے کرے گا۔“