الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
باب مَا جَاءَ فِي الصَّيْدِ بِالْمِعْرَاضِ باب: معراض کے شکار کا بیان
حدیث نمبر: 7590
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَخَزَقَ فَكُلْ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ جو شکار تیر کے درمیانی موٹے حصے کے لگنے سے مرے گا، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شکار کو تیر کی دھار لگے اور وہ اس میں گھس جائے اس کو کھا لو اور جب تیر کا درمیانی حصہ لگے اور شکار کو قتل کر دے تو وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی مانند ہے، پس اسے نہیں کھانا۔
وضاحت:
فوائد: … تیر کا درمیانی حصہ محض ایک لاٹھی کی مانند ہوتا ہے، اس کو معراض کہا گیا ہے، اس کے ذریعے جو شکار مر جائے گا، وہ حرام ہو گا، کیونکہ یہ حصہ تیر دھار کے حکم میں نہیں آتا اور نہ شکار میں پیوست ہوتا ہے۔