الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
باب مَا جَاءَ فِي الصَّيْدِ بِالْمِعْرَاضِ باب: معراض کے شکار کا بیان
حدیث نمبر: 7591
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَسَمَّيْتَ فَخَالَطَ كِلَابًا أُخْرَى فَأَخَذَتْهُ جَمِيعًا فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا أَخَذَهُ وَإِذَا رَمَيْتَ فَسَمَّيْتَ فَخَزَقَتْ فَكُلْ فَإِنْ لَمْ تَخْزَقْ فَلَا تَأْكُلْ وَلَا تَأْكُلْ مِنَ الْمِعْرَاضِ وَلَا تَأْكُلْ مِنَ الْبُنْدُقَةِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور بسم اللہ بھی کہو ، لیکن اگر یہ کتا دوسرے کتوں کے ساتھ مل جائے تو وہ شکار نہیں کھانا، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ کس کتے نے اس شکار کو مارا ہے (جبکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے)، اسی طرح جب تم تیر پھینکو اور بسم اللہ کہی ہو اور وہ تیر شکار میں پیوست ہو گیا ہو تو اس کو کھا لو، اگر وہ پیوست نہ ہو اور تیر کے درمیانی موٹے حصے کی ضرب سے مرے ہوئے شکار کو نہ کھاؤ اور بندق کے کیے گئے شکار کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ اس کو ذبح کر لو۔
وضاحت:
فوائد: … بندق سے مراد وہ کنکر ہیں جو مٹی سے بنا کر خشک کر لیے جاتے ہیں اور وہ شکار کو مارے جاتے ہیں، اگر شکار مر جائے تو وہ مردار ہوتا ہے،کیونکہ وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی طرح ہوتا ہے، جس کو سورۂ مائدہ کی آیت نمبر (۳) میں حرام قرار دیا گیا ہے، ہاں اگر ایسا جانور زندہ مل جائے تو اس کو ذبح کیا جا سکتا ہے۔