الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ تحريم التَّدَاوِي بِالْخَمْرِ وَبَيَان أَنَّهَا لَيْسَتْ بدواء باب: شراب کے ذریعے علاج کرنے کو حرام قرار دینے اور اس چیز کا بیان کہ شراب دوا نہیں ہے
حدیث نمبر: 7577
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ عَنْهَا فَقَالَ إِنِّي أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا دَاءٌ وَلَيْسَتْ بِدَوَاءٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سوید بن طارق نامی ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شراب کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پینے سے روک دیا، اس نے کہا: میں دوا کے لیے شراب بناتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ تو بیماری ہے اور دوا نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: اس حدیث میں یہ صراحت موجود ہے کہ شراب دوا نہیں ہے، لہذا اس سے علاج کرنا درست نہیںہے، ہمارے اصحاب کے ہاں یہی رائے راجح ہے کہ اس سے علاج کرنا حرام ہے اور پیاس بجھانے کے لیے اس کو پینا بھی حرام ہے، ہاں جب لقمہ گلے میںپھنس جائے اور اس کو اتارنے کے لیے شراب کے علاوہ کوئی چیز موجود نہ ہو تو ضروری ہے کہ شراب استعمال کر لی جائے۔