حدیث نمبر: 7575
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَسُهَيْلَ ابْنَ بَيْضَاءَ وَنَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ وَأَنَا أَسْقِيهِمْ حَتَّى كَادَ الشَّرَابُ أَنْ يَأْخُذَ فِيهِمْ فَأَتَى آتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ أَوَمَا شَعَرْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَمَا قَالُوا حَتَّى نَنْظُرَ وَنَسْأَلَ فَقَالُوا يَا أَنَسُ اكْفِ مَا بَقِيَ فِي إِنَائِكَ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا عَادُوا فِيهَا وَمَا هِيَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْبُسْرُ وَهِيَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو عبیدہ بن جراح، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا سہیل بن بیضاء اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کوسیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں شراب پلا رہا تھا، تقریباً شراب اپنا اثر ان میں دکھا رہی تھی کہ ایک مسلمان آیا اور اس نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ شراب حرام ہو چکی ہے؟ انہوں نے جواباً یہ نہیں کہا کہ اچھا ہم دیکھتے ہیں یا کسی اور سے پوچھتے ہیں، بلکہ انہوں نے فوراً حکم دیا: اے انس! جو برتن میں باقی ہے، اسے انڈیل دو، اللہ کی قسم! اس کے بعد انہوں نے شراب کودیکھا تک نہیں، اس دور میں وہ عام طور پر شراب خشک کھجور اور کچی کھجور سے بناتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … شراب کی حرمت کا معاملہ تو بالکل واضح ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں صحابۂ کرام کی رغبت کا اندازہ لگا کر ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے آپ کی اصلاح کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7575
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5582، 7253، ومسلم: 1980، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12869 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12900»