حدیث نمبر: 7572
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِمُدْيَةٍ وَهِيَ الشَّفْرَةُ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَرْسَلَ بِهَا فَأُرْهِفَتْ ثُمَّ أَعْطَانِيهَا وَقَالَ اغْدُ عَلَيَّ بِهَا فَفَعَلْتُ فَخَرَجَ بِأَصْحَابِهِ إِلَى أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ وَفِيهَا زِقَاقُ خَمْرٍ قَدْ جُلِبَتْ مِنَ الشَّامِ فَأَخَذَ الْمُدْيَةَ مِنِّي فَشَقَّ مَا كَانَ مِنْ تِلْكَ الزِّقَاقِ بِحَضْرَتِهِ ثُمَّ أَعْطَانِيهَا وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ أَنْ يَمْضُوا مَعِي وَأَنْ يُعَاوِنُونِي وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْأَسْوَاقَ كُلَّهَا فَلَا أَجِدُ فِيهَا زِقَّ خَمْرٍ إِلَّا شَقَقْتُهُ فَفَعَلْتُ فَلَمْ أَتْرُكْ فِي أَسْوَاقِهَا زِقًّا إِلَّا شَقَقْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے پاس چھری لاؤں، میں چھری لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چھری تیز کرنے کے لیے بھیجی، پس اس کو تیز کیا گیا، پھر مجھے دے دی اور فرمایا: یہ چھری لے کر صبح کو میرے پاس آنا۔ پس میں نے ایسے ہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ کے بازاروں میں نکلے، بازاروں میں شراب کی مشکیں تھیں، جو شام سے لائی گئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے وہ چھری لے لی اور جومشکیں موجود تھیں، ان سب کو چاک کر دیا، اور پھر چھری مجھے دے دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جتنے ساتھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ چلیں اور مجھ سے تعاون کریں اور مجھے حکم دیا کہ میں بازاروں میں جاؤں اور شراب کی جو بھی مشک پاؤں، اسے پھاڑ ڈالوں، پس میں نے ایسے ہی کیا، میں نے بازاروں میں کوئی شراب کی ایسی مشک نہ چھوڑی، جسے میں نے چیر نہ ڈالا ہو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7572
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6165 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6165»