الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَاب مَا جَاءَ فِي وَعِيدِ شَارِبِ الْخَمْرِ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ باب: شرابی کی وعید کا بیان،ہم اس سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرتے ہیں
حدیث نمبر: 7564
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَرْضَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا وَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے شراب پی، اللہ تعالیٰ اس سے چالیس دن ناراض رہتا ہے، اگر وہ اسی حالت میں فوت ہوا تو کافر فوت ہو گا، اگر وہ توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا، اور اگر وہ پھر شراب نوشی کرے گا تو اللہ تعالیٰ کا حق بنتا ہے کہ اسے طِینَۃُ الْخَبَال سے پلائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! طِینَۃُ الْخَبَال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاں دوزخیوں کی پیپ جمع ہوتی ہے۔