حدیث نمبر: 7556
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمِرْبَدِ فَخَرَجْتُ مَعَهُ فَكُنْتُ عَنْ يَمِينِهِ وَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَأَخَّرْتُ لَهُ فَكَانَ عَنْ يَمِينِهِ وَكُنْتُ عَنْ يَسَارِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَنَحَّيْتُ لَهُ فَكَانَ عَنْ يَسَارِهِ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمِرْبَدَ فَإِذَا بِأَزْقَاقٍ عَلَى الْمِرْبَدِ فِيهَا خَمْرٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْمُدْيَةِ قَالَ وَمَا عَرَفْتُ الْمُدْيَةَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِالزِّقَاقِ فَشُقَّتْ ثُمَّ قَالَ لُعِنَتِ الْخَمْرُ وَشَارِبُهَا وَسَاقِيهَا وَبَائِعُهَا وَمُبْتَاعُهَا وَحَامِلُهَا وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ وَعَاصِرُهَا وَمُعْتَصِرُهَا وَآكِلُ ثَمَنِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک باڑے کی طرف گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب تھا، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو میں پیچھے ہٹ گیا اور اب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب تھا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آ گئے تو پھر میں علیحدہ ہوگیا اور اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باڑے میں آئے تو باڑے میں کچھ مشکیں تھیں، جن میں شراب تھی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری لانے کا کہا اور چھری کے لیے مُدْیَۃ کا لفظ استعمال کیا، مجھے اس دن اس لفظ کا علم ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور مشکیں کاٹ دی گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شراب، اس کے پینے والے،پلانے والے، فروخت کرنے والے، خریدنے والے، اٹھانے والے، جس کی طرف اٹھا کر لے جائی گئی، نچڑوانے والے، نچوڑنے والے اور اس کی قیمت کھانے والے، ان سب افراد پر لعنت کی گئی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … شراب کی وجہ سے نو افراد پر لعنت کی گئی ہے، اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ اندازہ لگانا بھی آسان ہو جاتا ہے کہ برائی کا سبب بننا بھی بہت بڑا جرم ہے، اصل جرم تو شراب پینا ہے، باقی آٹھ افراد پر تعاون کرنے کی وجہ سے لعنت کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7556
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار : 3343، والبيھقي: 8/ 287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5390»