الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ مَا يُتَّخَذُ مِنْهُ الخَمْرُ وَتَحْرِيمُهُ وَأَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍحَرَامٌ باب: وہ جس سے شراب بنائی جاتی ہے اور شراب کی حرمت کا بیان اور یہ کہ ہر نشہ آور حرام ہے
عَنِ ابْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ بُكَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ شَرَاحْبِيلَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّ لِي أَرْحَامًا بِمِصْرَ يَتَّخِذُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَعْنَابِ قَالَ وَفَعَلَ ذَلِكَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَا تَكُونُوا بِمَنْزِلَةِ الْيَهُودِ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا قَالَ قُلْتُ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَخَذَ عُنْقُودًا فَعَصَرَهُ فَشَرِبَهُ قَالَ لَا بَأْسَ فَلَمَّا سِرْتُ قَالَ مَا حَلَّ شُرْبُهُ حَلَّ بَيْعُهُ۔ شراحبیل بن بکیل کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے کہا: میرے مصر میں کچھ رشتہ دار رہتے ہیں، وہ انگور سے شراب تیار کرتے ہیں، انھوں نے کہا: کیا مسلمانوں میں سے بھی کوئی یہ کام کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: یہودیوں کی طرح کی روش اختیار نہ کرو، ان پر چربی حرام قرار دی گئی، لیکن انہوں نے اسے فروخت کیااور اس کی قیمت کھانا شروع کر دی۔ میں نے کہا: آپ کا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے، جو انگور کا ایک گچھا لیتا ہے اور اسے نچور کر پی لیتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر جب میں چلا تو انھوں نے کہا: جس چیز کا پینا حلال ہے، اس چیز کا فروخت کرنا بھی حلال ہے۔