حدیث نمبر: 7554
عَنِ ابْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ بُكَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ شَرَاحْبِيلَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّ لِي أَرْحَامًا بِمِصْرَ يَتَّخِذُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَعْنَابِ قَالَ وَفَعَلَ ذَلِكَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَا تَكُونُوا بِمَنْزِلَةِ الْيَهُودِ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا قَالَ قُلْتُ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَخَذَ عُنْقُودًا فَعَصَرَهُ فَشَرِبَهُ قَالَ لَا بَأْسَ فَلَمَّا سِرْتُ قَالَ مَا حَلَّ شُرْبُهُ حَلَّ بَيْعُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ شراحبیل بن بکیل کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے کہا: میرے مصر میں کچھ رشتہ دار رہتے ہیں، وہ انگور سے شراب تیار کرتے ہیں، انھوں نے کہا: کیا مسلمانوں میں سے بھی کوئی یہ کام کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: یہودیوں کی طرح کی روش اختیار نہ کرو، ان پر چربی حرام قرار دی گئی، لیکن انہوں نے اسے فروخت کیااور اس کی قیمت کھانا شروع کر دی۔ میں نے کہا: آپ کا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے، جو انگور کا ایک گچھا لیتا ہے اور اسے نچور کر پی لیتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر جب میں چلا تو انھوں نے کہا: جس چیز کا پینا حلال ہے، اس چیز کا فروخت کرنا بھی حلال ہے۔

وضاحت:
فوائد: … شراب کے موضوع پر اس باب کی احادیث ِ مبارکہ میں انتہائی اہم قوانین بیان کیے گئے ہیں اور شریعت کا اصل مقصد بیان کیا گیا ہے، شراب اس وجہ سے حرام نہیں ہے کہ وہ انگور سے بنائی جاتی ہے یا گندم سے یا کسی اور چیز سے، بلکہ اس کی حرمت کا سبب اس کی صفت ِنشہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7554
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اثر حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16163»