حدیث نمبر: 7553
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ وَجَيْشَانُ مِنَ الْيَمَنِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمُسْكِرٌ هُوَ قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَإِنَّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جیشان کا ایک آدمی آیا، جیشان یمن کا علاقہ ہے، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شراب کے متعلق دریافت کیا، جسے وہ پیتے تھے، وہ ان کے ہاں تیار کی جاتی تھی، اس کا نام مزر تھا، وہ مکئی سے تیار کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا عہد ہے کہ جونشہ آور چیز پیے گا، وہ اسے طینہ الخبال سے پلائے گا۔ لوگوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! طینۃ الخبال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخیوں کا پسینہ ہے یا ان کے زخموں سے بہنے والا مادہ ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7553
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2002 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14941»