حدیث نمبر: 7552
عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ بِهَا عَمَلًا شَدِيدًا وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا قَالَ هَلْ يُسْكِرُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاجْتَنِبُوهُ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ هَلْ يُسْكِرُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاجْتَنِبُوهُ قُلْتُ إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَاقْتُلُوهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا دیلم حمیری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ہماری سر زمین ٹھنڈک والی ہے اور ہماری محنت بہت سخت ہے، ہم گندم سے ایک شراب تیار کرتے ہیں، جس کے ذریعہ ہم قوت حاصل کرتے ہیں تاکہ عملی مشقت اور علاقے کی ٹھنڈک پر قابو پائیں، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہے؟ میں نے کہا: جی وہ نشہ آور تو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے اجتناب کرو اور اسے نہ پیو۔ میں سامنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہی سوال دوہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ دیتی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے بچو۔ میں نے کہا: لوگ تو اسے نہیں چھوڑیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر نہ چھوڑیں تو انہیں قتل کر دو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7552
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3683 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18035 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18198»