الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ مَا يُتَّخَذُ مِنْهُ الخَمْرُ وَتَحْرِيمُهُ وَأَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍحَرَامٌ باب: وہ جس سے شراب بنائی جاتی ہے اور شراب کی حرمت کا بیان اور یہ کہ ہر نشہ آور حرام ہے
عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْلَمَهُمُ الصَّلَاةَ وَالسُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ ثُمَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ قَالَ فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ ثُمَّ لَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمَيْنِ ذَكَرُوهُمَا لَهُ أَيْضًا فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ ثُمَّ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا سَأَلُوهُ عَنْهُ فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ قَالُوا فَإِنَّهُمْ لَا يَدَعُونَهَا قَالَ مَنْ لَمْ يَتْرُكْهَا فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ یمن کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے انہیں نماز، سنتوں اور فرضوں کی تعلیم دی، انھوں نے کہا: ہمارا ایک مشروب ہے، جسے ہم گندم اور جو سے تیار کرتے ہیں، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے غبیراء کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نہ کھانا۔ دو دن کے بعد پھر انہوں نے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی غبیراء؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو استعمال نہیں کرنا۔ جب یہ لوگ جانے لگے تو انھوں نے اس کے متعلق پھر سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غبیراء؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نہیں کھانا۔ وہ کہنے لگے: وہ لوگ تو اس کو نہیں چھوڑیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس کو نہ چھوڑے، اس کی گردن اڑا دینا۔