حدیث نمبر: 7550
عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْلَمَهُمُ الصَّلَاةَ وَالسُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ ثُمَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ قَالَ فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ ثُمَّ لَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمَيْنِ ذَكَرُوهُمَا لَهُ أَيْضًا فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ ثُمَّ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا سَأَلُوهُ عَنْهُ فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ قَالُوا فَإِنَّهُمْ لَا يَدَعُونَهَا قَالَ مَنْ لَمْ يَتْرُكْهَا فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ یمن کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے انہیں نماز، سنتوں اور فرضوں کی تعلیم دی، انھوں نے کہا: ہمارا ایک مشروب ہے، جسے ہم گندم اور جو سے تیار کرتے ہیں، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے غبیراء کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نہ کھانا۔ دو دن کے بعد پھر انہوں نے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی غبیراء؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو استعمال نہیں کرنا۔ جب یہ لوگ جانے لگے تو انھوں نے اس کے متعلق پھر سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غبیراء؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نہیں کھانا۔ وہ کہنے لگے: وہ لوگ تو اس کو نہیں چھوڑیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس کو نہ چھوڑے، اس کی گردن اڑا دینا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7550
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف دراج بن سعان، أخرجه ابويعلي: 7147، والطبراني في الكبير : 23/ 483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27952»