الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ نَسْحَ تَحْرِيمِ الْانْتِبَادِ فِي الْأَرْعِيَةِ الْمُتَقَدِّمِ ذِكْرُهَا باب: سابق احادیث میں جن برتنوں میں نبیذ بنانے کو حرام قرار دیا گیا¤ان کے اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ إِنِّي لَشَاهِدٌ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَنَهَاهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ لَا ظُرُوفَ لَهُمْ قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ يَرْثِي لِلنَّاسِ قَالَ فَقَالَ اشْرَبُوا مَا طَابَ لَكُمْ فَإِذَا خَبُثَ فَذَرُوهُ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب وفد عبد القیس آیا تھا، میں بھی اس وقت حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ان برتنوں میں سے پینے سے منع فرمایا: کدو سے تیار شدہ برتن، تارکول لگا مٹکا اور تنا سے تیار شدہ، ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کے پاس اور برتن نہیں ہیں، سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کی حالت پر ترس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان برتنوں میں پیو جتنا تمہاری مرضی، بس جب نشہ پیدا ہو جائے تو پھرچھوڑ دینا۔