الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ نَسْحَ تَحْرِيمِ الْانْتِبَادِ فِي الْأَرْعِيَةِ الْمُتَقَدِّمِ ذِكْرُهَا باب: سابق احادیث میں جن برتنوں میں نبیذ بنانے کو حرام قرار دیا گیا¤ان کے اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان
عَنْ يَحْيَى بْنِ غَسَّانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ أَبِي فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ قَيْسٍ فَنَهَاهُمْ عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ قَالَ فَأَتْخَمْنَا ثُمَّ أَتَيْنَاهُ الْعَامَ الْمُقْبِلَ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتَنَا عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ فَأَتْخَمْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْتَبِذُوا فِيمَا بَدَا لَكُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا فَمَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ۔ یحییٰ بن غسان تیمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے ابا جان اس وفد میں تھے، جو عبد قیس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تھا، آپ نے انہیں ان چار برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تھا، وہ کہتے ہیں: ہم نے ان برتنوں کا استعمال چھوڑ دیا تھا، لیکن ہم وبا زدہ ہو گئے تھے، جب ہم آئندہ سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ان برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے اور ہمارا علاقہ وبائی ہے، ہم وبا زدہ ہو گئے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب جس برتن میں چاہو نبیذ بنا سکتے ہو، بس نشہ آور چیز نہ پینا،جو چاہے وہ اپنے مشکیزے کا منہ بند کر سکتا ہے۔