الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ الْأَوْعِيَةِ الْمُنْهَى عَنِ الْانْتِبَادِ فِيهَا وَنَسْخِ تَحْرِيم ذَلِكَ باب: ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيذِ فِي النَّقِيرِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَقَالَ لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ذِي إِكَاءٍ فَصَنَعُوا جُلُودَ الْإِبِلِ ثُمَّ جَعَلُوا لَهَا أَعْنَاقًا مِنْ جُلُودِ الْغَنَمِ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَعْلَاهُ مِنْهُ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنے سے کرید کر تیار شدہ برتن، کدو سے تیار شدہ برتن اور تارکول لگے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف اس برتن سے پیو، جس پر تسمہ باندھا ہوا ہو۔ لوگوں نے اونٹوں کی کھال سے مشکیں تیار کیں اور ان پر مشک کی گردن کے قریب بکریوں کے چمڑے لگا دیئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عمل کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم صرف اس مشک سے پی سکتے ہو، جس کے اوپر والا حصہ بکری کے چمڑے کا ہو۔