حدیث نمبر: 7520
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيذِ فِي النَّقِيرِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَقَالَ لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ذِي إِكَاءٍ فَصَنَعُوا جُلُودَ الْإِبِلِ ثُمَّ جَعَلُوا لَهَا أَعْنَاقًا مِنْ جُلُودِ الْغَنَمِ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَعْلَاهُ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنے سے کرید کر تیار شدہ برتن، کدو سے تیار شدہ برتن اور تارکول لگے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف اس برتن سے پیو، جس پر تسمہ باندھا ہوا ہو۔ لوگوں نے اونٹوں کی کھال سے مشکیں تیار کیں اور ان پر مشک کی گردن کے قریب بکریوں کے چمڑے لگا دیئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عمل کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم صرف اس مشک سے پی سکتے ہو، جس کے اوپر والا حصہ بکری کے چمڑے کا ہو۔

وضاحت:
فوائد: … چونکہ بکری کا چمڑا نرم ہوتا ہے، اس لیے جب نبیذ میں شدت پیدا ہوتی ہے تو یہ چمڑا پھول جاتا ہے اور پتہ چل جاتا ہے کہ نبیذ نشہ آور ہو گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7520
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف حسين بن عبد الله، أخرجه ابويعلي: 2730 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2607 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2607»