الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ الْأَوْعِيَةِ الْمُنْهَى عَنِ الْانْتِبَادِ فِيهَا وَنَسْخِ تَحْرِيم ذَلِكَ باب: ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ قَالَ قُلْتُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجْعَلُ نَبِيذَهُ فِي جَرَّةٍ خَضْرَاءَ كَأَنَّهَا قَارُورَةٌ وَيَشْرَبُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ أَلَا تَنْتَهُوا عَمَّا نَهَاكُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدو سے تیار شدہ برتن، مٹکے،تنے کو کرید کر بنائے گئے برتن اورتار کول لگائے ہوئے برتن کو استعمال کرنے سے منع کیا ہے، اور کچی کھجور اور پختہ کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے، سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ بتائیں کہ ایک آدمی سبز مٹکے میں نبیذ بناتا ہے اوروہ شیشی کی مانند صاف ہے اور اسے رات کو پیتا ہے، کیا یہ جائز نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: جس سے تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے، کیا تم اس سے باز نہیں آؤ گے؟