الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ الْأَوْعِيَةِ الْمُنْهَى عَنِ الْانْتِبَادِ فِيهَا وَنَسْخِ تَحْرِيم ذَلِكَ باب: ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْجَرِّ الْأَبْيَضِ وَالْجَرِّ الْأَخْضَرِ وَالْجَرِّ الْأَحْمَرِ فَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ فَقَالُوا إِنَّا نُصِيبُ مِنَ الثُّفْلِ فَأَيُّ الْأَسْقِيَةِ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيَّ أَوْ حَرَّمَ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْكُوبَةَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ سُفْيَانُ قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ مَا الْكُوبَةُ قَالَ الطَّبْلُ۔ قیس بن حبتر کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے سفید، سبز اور سرخ مٹکے کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: اس کے متعلق سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عبد القیس کے وفد نے سوال کیا تھا، انہوں نے کہا: ہم آٹا یا ستو وغیرہ حاصل کرتے ہیں، اب ہم کون سی مشکوں میں نبیذ بنایا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کدو کرید کر بنایا ہوا برتن، تار کول لگایا ہوا برتن، تنا کرید کر بنایا ہوا برتن اورمٹکا کو مشروب کے لیے استعمال نہ کرو، البتہ مشکوں میں بنایا ہوا نبیذ پیا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب، جوا اور طبل بجانا حرام کیا ہے اورہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے پوچھا کہ طبل کیا ہے؟ انھوں نے کہا: ڈھولک بجانا۔