حدیث نمبر: 7513
عَنْ زَاذَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبِرْنِي مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَوْعِيَةِ وَفَسِّرْهُ لَنَا بِلُغَتِنَا فَإِنَّ لَنَا لُغَةً سِوَى لُغَتِكُمْ قَالَ نَهَى عَنِ الْحَنْتَمِ وَهُوَ الْجَرُّ وَنَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ وَهُوَ الْمُقَيَّرُ وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَهُوَ الْقَرْعُ وَنَهَى عَنِ النَّقِيرِ وَهِيَ النَّخْلَةُ تُنْقَرُ نَقْرًا وَتُنْسَجُ نَسْجًا قَالَ فَفِيمَ تَأْمُرُنَا أَنْ نَشْرَبَ فِيهِ قَالَ الْأَسْقِيَةُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَمَرَ أَنْ نَنْبِذَ فِي الْأَسْقِيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ زاذان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے کہا: ہمیں وہ برتن بتاؤ، جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے، چونکہ ہماری اورتمہاری زبان میں فرق ہے، اس لیے ہماری لغت میں وضاحت کرنا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا: آپ نے حَنْتَم سے منع فرمایا، جسے مٹکا کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مُزَفّت سے منع فرمایا، یہ برتن تار کول لگایا ہوا ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دُبّاء سے منع فرمایا، یہ کدو سے بنایا جاتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نَقِیر سے منع فرمایا ہے، یہ برتن کھجور کا تنا کرید کر بنایا جاتا ہے،میں نے کہا: پھر ہم کس چیز میں مشروب پئیں؟ انھوں نے کہا: مشکوں میں سے، محمد بن جعفر راوی کے الفاظ یہ ہیں: اور ہمیں حکم دیا کہ ہم مشکوں میں نبیذ بنایا کریں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7513
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1997، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5191 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5191»