الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ الْأَوْعِيَةِ الْمُنْهَى عَنِ الْانْتِبَادِ فِيهَا وَنَسْخِ تَحْرِيم ذَلِكَ باب: ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
عَنْ زَاذَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبِرْنِي مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَوْعِيَةِ وَفَسِّرْهُ لَنَا بِلُغَتِنَا فَإِنَّ لَنَا لُغَةً سِوَى لُغَتِكُمْ قَالَ نَهَى عَنِ الْحَنْتَمِ وَهُوَ الْجَرُّ وَنَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ وَهُوَ الْمُقَيَّرُ وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَهُوَ الْقَرْعُ وَنَهَى عَنِ النَّقِيرِ وَهِيَ النَّخْلَةُ تُنْقَرُ نَقْرًا وَتُنْسَجُ نَسْجًا قَالَ فَفِيمَ تَأْمُرُنَا أَنْ نَشْرَبَ فِيهِ قَالَ الْأَسْقِيَةُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَمَرَ أَنْ نَنْبِذَ فِي الْأَسْقِيَةِ۔ زاذان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے کہا: ہمیں وہ برتن بتاؤ، جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے، چونکہ ہماری اورتمہاری زبان میں فرق ہے، اس لیے ہماری لغت میں وضاحت کرنا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا: آپ نے حَنْتَم سے منع فرمایا، جسے مٹکا کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مُزَفّت سے منع فرمایا، یہ برتن تار کول لگایا ہوا ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دُبّاء سے منع فرمایا، یہ کدو سے بنایا جاتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نَقِیر سے منع فرمایا ہے، یہ برتن کھجور کا تنا کرید کر بنایا جاتا ہے،میں نے کہا: پھر ہم کس چیز میں مشروب پئیں؟ انھوں نے کہا: مشکوں میں سے، محمد بن جعفر راوی کے الفاظ یہ ہیں: اور ہمیں حکم دیا کہ ہم مشکوں میں نبیذ بنایا کریں۔