حدیث نمبر: 7497
عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ أَنُهِيَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ فَقُلْتُ مَنْ زَعَمَ ذَاكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ زَعَمُوا ذَاكَ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ قَالَ فَصَرَفَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَنِّي يَوْمَئِذٍ وَكَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا سُئِلَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ ثُمَّ هَمَّ بِصَاحِبِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے دریافت کیا کہ کیا مٹکے میں بنایا گیا نبیذ پینے سے منع کیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: لوگوں کا خیال تویہی ہے، میں نے کہا: یہ کس کا خیال ہے؟ کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خیال ہے؟ انھوں نے کہا: لوگوں کا خیال یہی ہے کہ اس سے منع کیا گیا ہے، میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا آپ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: لوگوں کا خیال یہی ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے ان کو مجھ سے در گزر کروا دیا، وگرنہ جب کوئی ان سے یہ کہتا کہ آیا تم نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے تو وہ غضبناک ہو جاتے تھے اورکہنے والے کو سخت جھنجھوڑا کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں تردّد ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے یا نہیں، لیکن صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: قَالَ رَجُلٌ لِاِبْنِ عُمَرَ: اَنَھٰی نَبِیُّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَیْضَا عَنْ نَبِیْذِ الْجَرِّ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ … ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا اللہ کے نبی نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7497
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن بي شيبة: 8/ 126 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5074»