حدیث نمبر: 7496
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الشَّرَابِ فَقَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ وَكَانَتْ كَثِيرَةَ التَّمْرِ فَحَرَّمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَضِيخَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ أُمٍّ لَهُ عَجُوزٍ كَبِيرَةٍ أَنَسْقِيهَا النَّبِيذَ فَإِنَّهَا لَا تَأْكُلُ الطَّعَامَ فَنَهَاهُ مَعْقِلٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو عبد اللہ جسری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مشروب کے متعلق دریافت کیا،انہوں نے کہا: اس وقت کی بات ہے جب ہم مدینہ میں تھے، وہاں کھجوریں بہت زیادہ ہوتی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے وہ مشروب حرام قرار دیا تھا، جو کھجوروں سے تیار ہوتا تھا جسے فضیخ کہتے تھے، معقل کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے ان سے سوال کیا کہ میری بوڑھی ماں ہے، وہ بہت عمر رسیدہ ہے، وہ کھانا نہیں کھا سکتی، کیا ہم اسے نبیذ پلا سکتے ہیں؟ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے اسے منع کر دیا۔

وضاحت:
فوائد: … پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ نبیذ جائز ہے، ممکن ہے کہ یہ آدمی جس مشروب کو نبیذ کہہ رہا ہو، اس میں نشہ پیدا ہو جاتا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7496
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 183، والطبراني: 20/ 504، والطيالسي: 934 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20565»