الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
باب ما لا يجوز من الأَنْبِدَةِ وَمَا جَاءَ فِي نَبِيدِ الْجَر باب: نبیذ کی ناجائز صورتوں اور مٹکے کی نبیذ کابیان
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُمَا يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا قَالَ أَبُو مُوسَى يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ يُصْنَعُ فِيهَا شَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ يُقَالُ لَهُ الْبِتْعُ وَشَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ۔ (دوسری سن) سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری اورسیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن کی جانب نمائندے بنا کر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ آسانی کرنا، تنگی نہ کرنا، خوش خبری دینا، نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق سے چلنا اختلاف نہ کرنا۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی سرزمین میں ہیں جس میں شہد سے شراب تیار کی جاتی ہے،جسے بتع کہتے ہیں اور ایک جو سے شراب تیار کی جاتی ہے، جسے مزر کہا جاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔