الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
باب ما لا يجوز من الأَنْبِدَةِ وَمَا جَاءَ فِي نَبِيدِ الْجَر باب: نبیذ کی ناجائز صورتوں اور مٹکے کی نبیذ کابیان
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ قَالَ وَمَا هِيَ قُلْتُ الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ فَلَمْ يَدْرِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا هُوَ فَقَالَ مَا الْبِتْعُ وَمَا الْمِزْرُ قَالَ أَمَّا الْبِتْعُ فَنَبِيذُ الذُّرَةِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعُودَ بِتْعًا وَأَمَّا الْمِزْرُ فَنَبِيذُ الْعَسَلِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْرَبَنَّ مُسْكِرًا۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہاں کچھ (مخصوص) مشروبات پائے جاتے ہیں، میں ان میں سے کون سے پی سکتا ہوں اور کون سے ترک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کونسے (مشروبات) ہیں؟ میں نے کہا: وہ بتع اور مزر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں پہچان نہ سکے کہ وہ کون کون سے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بتع اور مزر کسے کہتے ہیں؟ میں نے کہا: بتع مکئی کی نبیذ ہے، اس کو پکایا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ بتع بن جاتی ہے اور شہد کی نبیذ کو مزر کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بس، نشہ آور مشروب نہیں پینا۔