حدیث نمبر: 7488
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ فَيْرُوزَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَصْحَابُ أَعْنَابٍ وَكَرْمٍ وَقَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ فَمَا نَصْنَعُ بِهَا قَالَ تَتَّخِذُونَهُ زَبِيبًا قَالَ فَنَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ مَاذَا قَالَ تَنْقَعُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَتَنْقَعُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ وَنَحْنُ نُزُولٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ فَمَنْ وَلِيُّنَا قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ قُلْتُ حَسْبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم انگوروں کے مالک ہیں، اب شراب کی حرمت نازل ہوچکی ہے، اب ہم انگوروں کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کا منقّی تیار کر لیا کرو۔ اس نے کہا: پھر ہم منقی کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے صبح پانی میں ڈالو اورشام کے کھانے کے ساتھ پیو اور شام کو پانی میں ڈالو اور صبح کو پی لو۔ میں نے کہا: آپ کو معلوم ہے ہم جس قوم سے ہیں، ان میں سے ہم ہی ایمان لائے ہیں، ہماری قوم ایمان نہیں لائی، نیز آپ جانتے ہیں کہ ہم کافر قوم کے درمیان رہتے ہیں، اب ہمارا ولی کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہی کافی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … نبیذ جائز ہے، لیکن یہ توجہ کرنا ضروری ہے کہ اس کو اتنی دیر نہ رکھا جائے کہ اس میں نشہ پیدا ہو جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شبہے سے بچنے کے لیے نبیذ کو ضائع کروا دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7488
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3710، والنسائي: 8/ 332 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18206»