الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي اللَّبَنِ وَشُرْبِهِ وَحُلْبِهِ وَغَيْرِهِ ذَلِكَ الأَنبدَةُ الْجَائِرَةُ وَالْمُحَرَّمة باب: دودھ ، اس کو پینے اور اس کو دوہنے وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 7480
عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلِبَهَا فَحَلَبْتُهَا فَقَالَ دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے بعض اہل خانہ نے مجھے دودھ والی اونٹنی دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، میں وہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو دوہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مزید دودھ) کا سبب بننے والا دودھ (تھنوں میں) چھوڑ دیا کر۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ دوہنے والے کو چاہیے کہ وہ دودھ کی کچھ مقدار تھنوں میں باقی رہنے دے اور ان کو مکمل نہ نچوڑ لے، کیونکہ دوہنے کے بعد تھنوں میں باقی رہنے والا دودھ مزید دودھ کے اترنے کا سبب بنے گا اور تھنوں کو مکمل نچوڑ لینے کی صورت میں پچھلا دودھ کافی دیر کے بعد اترے گا۔