الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنِ النَّنَفْسِ فِي الْإِنَاءِ وَالنَّفْخِ فِيهِ باب: برتن میں سانس لینا اور پھونک مارنا منع ہے
عَنِ ابْنِ الْمُثَنَّى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَجُلٌ إِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ أَبِنْهُ عَنْكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ أَرَى فِيهِ الْقَذَاةَ قَالَ فَأَهْرِقْهَا۔ ابن مثنی کہتے ہیں: میں مروان کے پاس تھا، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لائے، مروان نے ان سے کہا: کیا تم نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پینے (کے برتن) میں سانس لینے سے منع فرمایا ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اور ایک آدمی نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! میں تو ایک سانس کے دوران پیے جانے والے پانی سے سیراب نہیں ہوتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: تو پھر پیالے کو منہ سے دور کر کے سانس لے لیا کرو (اور پھر پی لیا کرو)۔ اس نے کہا: اگر مجھے اس میں کوئی تنکا نظر آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے بہا دیا کرو۔