حدیث نمبر: 7459
عَنْ زَاذَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَرِبَ قَائِمًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّاسُ كَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوهُ وَفِي رِوَايَةٍ فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا تَنْظُرُونَ إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ زاذان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، لوگوں نے ان کی جانب تعجب انگیز انداز میں دیکھا، انھوں نے کہا: تم کیا دیکھتے ہو، اگر میں کھڑا ہو کر پیتاہوں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوکھڑا ہو کر پیتے ہوئے دیکھا ہے اور اگر میں بیٹھ کر پیتا ہوں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھ کر پیتے دیکھا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7459
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطحاوي: 4/ 273، وابن ابي شيبة: 8/ 204، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 795»