الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ تَرْتِيبِ الشَّارِبِينَ وَالْبَدَانَةِ بِأَفْضَلِ الْقَوْمِ ثُمَّ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَإِن سَافِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا باب: پینے والے والوں کی ترتیب کا، قوم کے شرف والے آدمی سے پینے کا آغاز کا اور اس کے بعد دائیں طرف والے کو مقدم کرنے کا اور اس چیز کا بیان کہ پلانے والا آخر میں پانی پئے گا
حدیث نمبر: 7452
عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ جَدَّتِي تَمْرًا يُقَلِّلُهُ وَطَبَخَتْ لَهُ وَسَقَيْنَاهُمْ فَنَفِدَ الْقَدَحُ فَجِئْتُ بِقَدَحٍ آخَرَ وَكُنْتُ أَنَا الْخَادِمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْطِ الْقَدَحَ الَّذِي انْتَهَى إِلَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اورمیری دادی نے تھوڑی سی کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں اور کھانا تیار کیا، ہم نے ان کو پانی پلایا، یہاں تک کہ پانی ختم ہو گیا، میں ایک اور پیالہ لے آیا، میں پانی پلانے کی خدمت پر مامور تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیالہ اس تک لے جاؤ جو آخری ہے، (پھر خود پینا)۔