حدیث نمبر: 7451
عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ مِنْ بَنِي أَسَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ قَالَ ثُمَّ هَجَمْنَا عَلَى الْمَاءِ بَعْدُ قَالَ فَجَعَلُوا يَسْقُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكُلَّمَا أَتَوْهُ بِالشَّرَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى شَرِبُوا كُلُّهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں تھے، پانی موجود نہ تھا، پھر اچانک ہمیں پانی مل گیا، لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پانی پلانا شروع کر دیا، جب بھی وہ آپ کے پاس پانی لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: قوم کو پلانے والا سب سے آخر میں پیتا ہے۔ آپ نے یہ بات تین بار دہرائی، یہاں تک کہ سب لوگوں نے پانی پیا تو تب آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ پانی پلانے والا پہلے سب کو پلا ئے گا، پھر آخر میں خود پئے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7451
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو المختار الاسدي مجھول الحال، أخرجه ابوداود: 3725 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19332»