الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ تَرْتِيبِ الشَّارِبِينَ وَالْبَدَانَةِ بِأَفْضَلِ الْقَوْمِ ثُمَّ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَإِن سَافِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا باب: پینے والے والوں کی ترتیب کا، قوم کے شرف والے آدمی سے پینے کا آغاز کا اور اس کے بعد دائیں طرف والے کو مقدم کرنے کا اور اس چیز کا بیان کہ پلانے والا آخر میں پانی پئے گا
عَنْ سَعْدِ بْنِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ فَقَالَ لِلْغُلَامِ أَتَأْذَنُ أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا قَالَ فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ۔ سیدنا سعد بن سہل انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب بزرگ تھے اور دائیں جانب ایک بچہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے سے فرمایا: کیا تو مجھے اجازت دے گا کہ میں ان بزرگوں کو یہ پانی دے دوں؟ لیکن اس بچے نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے نصیب پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پانی والا برتن اس بچے کے ہاتھ میں دے دیا۔