حدیث نمبر: 7449
عَنْ حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ يَمِينِهِ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ شِمَالِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشَّرَبَةُ لَكَ وَإِنْ شِئْتَ آثَرْتُ بِهَا خَالِدًا قَالَ مَا أُوثِرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب تھا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بائیں جانب تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی پیااور مجھ سے فرمایا: پانی پینے کی باری تو تمہاری ہے، لیکن اگر تمہاری مرضی ہو تو میں پہلے خالد کو دے دوں؟ میں کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا، پس آپ نے برتن مجھے تھما دیا۔

وضاحت:
فوائد: … غور فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اوربائیں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طبعی فیصلہ یہ تھا کہ پہلے خالد بن ولید کو مشروب پلایا جائے، لیکن وہ بائیں جانب بیٹھے تھے، اس لیے ابن عباس سے اجازت طلب کی، جب انھوں نے اجازت نہ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شرعی فیصلے کو ترجیح دی اور مشروب عبد اللہ بن عباس کو تھما دیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نہ صرف تقسیم کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ دائیں جانب کو مقدم کرے، بلکہ یہ دائیں طرف بیٹھنے والوں کا حق ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7449
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 3730، والترمذي: 3455، وأخرج بنحوه ابن ماجه: 3426، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: )1904۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1904»