الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ تَرْتِيبِ الشَّارِبِينَ وَالْبَدَانَةِ بِأَفْضَلِ الْقَوْمِ ثُمَّ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَإِن سَافِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا باب: پینے والے والوں کی ترتیب کا، قوم کے شرف والے آدمی سے پینے کا آغاز کا اور اس کے بعد دائیں طرف والے کو مقدم کرنے کا اور اس چیز کا بیان کہ پلانے والا آخر میں پانی پئے گا
عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ وَكُنَّ أُمَّهَاتِي تَحُثُّنِي عَلَى خِدْمَتِهِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَعُمَرُ نَاحِيَةً فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ فَنَاوَلَ الْأَعْرَابِيَّ وَقَالَ الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں آئے تو میری عمر دس برس تھی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا، میری ماں اور خالائیں مجھے آپ کی خدمت پر ترغیب دلاتی رہتی تھیں، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر داخل ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اپنی پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھروالے کنوئیں سے اس میں پانی ملایا، ایک دیہاتی آپ کی دائیں جانب تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی بائیں جانب تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک کونے میں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ دودھ پیا، سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بقیہ دودھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دے دو، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیہاتی کو پکڑا دیا اور فرمایا: دائیں جانب والے مقدم ہوتے ہیں۔