حدیث نمبر: 7442
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَمْ يُغَطَّ وَلَا سِقَاءٍ لَمْ يُوكَ إِلَّا وَقَعَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برتنوں کو ڈھانپ کر اورمشکوں کے منہ باندھ کر رکھا کرو، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے کہ اس میں ایک وبا اترتی ہے اور وہ ہر اس برتن میں داخل ہو جاتی ہے، جو ڈھانپا ہوا نہ ہو اور ہر اس مشک میں اتر جاتی ہے جس کامنہ نہ باندھا ہو۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں حکم کی ایک وجہ بھی بیان کر دی گئی ہے، برتن اور مشکیزے کو نہ ڈھانپنے کے مزید نقصانات بھی ہو سکتے ہیں، مثلا کسی زہریلے جانور سے متاثر ہو جانا، کوئی چیز گرنے سے پانی اور مشروب کا خراب ہو جانا، وغیرہ وغیرہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7442
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2014، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14829 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14889»