الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ سَفْيِ الْمَاءِ وَالنَّهْي عَنْ مَنْعِ ما فَضَلَ مِنْهُ وَالتَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ باب: پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 7438
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَنَعَ فَضْلَ مَاءِهِ أَوْ فَضْلَ كَلَئِهِ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو زائد پانی اور زائد گھاس روکے گا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس سے اپنا فضل روک لے گا۔
وضاحت:
فوائد: … شریعت ِ مطہرہ میں اجتماعی فائدے کو سامنے رکھا جاتا ہے، نہ کہ فردِ واحد کے فائدے کو۔ اس حدیث میں یہی قانون بیان کیا گیا ہے۔ پانی اور گھاس اللہ تعالی کے ایسے عطیے ہیں، کہ جن کے حصول میں کسی کی قابلیت کو کوئی دخل حاصل نہیں ہے۔ لہٰذا سب لوگوں کو ان کے استعمال کا حق حاصل ہے۔