حدیث نمبر: 7437
عَنْ بُهَيْسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَدْنُو مِنْهُ وَيَلْتَزِمُهُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمَاءُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمِلْحُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ تَفْعَلِ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ قَالَ فَانْتَهَى قَوْلُهُ إِلَى الْمَاءِ وَالْمِلْحِ قَالَ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ لَا يَمْنَعُ شَيْئًا وَإِنْ قَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ بہیسہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میرے باپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو گئے اور ساتھ چمٹ گئے، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے، جسے روکنا جائز نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی۔ پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے، جسے روکنا حلال نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمک ہے۔ پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ کیا چیز ہے جسے روکنا حلال نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے یہی بہتر ہے کہ تو بھلائی والا کام کرے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات تو پانی اور نمک تک محدود رہی، لیکن اس کے بعد وہ آدمی کبھی کسی چیز کو دینے سے انکار نہ کرتا تھا، اگرچہ وہ معمولی سی بھی ہوتی۔

وضاحت:
فوائد: … یہ پانی وغیرہ اشیاء اگر ضرورت کے مطابق ہوں، تو روکنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ اگر ضرورت سے زائد ہوں تو ان کو روکنا منع ہے، ضرورت مند کو دینی چاہئیں، اس سے بہت بڑا اجر حاصل ہوتاہے، باقی کسی بھی ضرورت مند کی مقدور بھر ضرورت پوری کرنا خیر ہے اور خیر میں زیادہ سے زیادہ محنت کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7437
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، مسلسل بالمجاھيل، سيار بن منظور مجھول، وابوه لايعرف، وبھيسة الفزارية لا تعرف، وقد وقع الاضطراب في اسناد ھذا الحديث، أخرجه ابوداود: 1669، 3476، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16043»