الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ سَفْيِ الْمَاءِ وَالنَّهْي عَنْ مَنْعِ ما فَضَلَ مِنْهُ وَالتَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ باب: پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ قَالَ فَطَفِقْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَا أَذْكُرُ مَا أَسْأَلُهُ عَنْهُ فَقَالَ اذْكُرْهُ قَالَ وَكَانَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ أَنْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الضَّالَّةُ تَغْشَى حِيَاضِي وَقَدْ مَلَأْتُهَا مَاءً لِإِبِلِي هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ أَنْ أَسْقِيَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فِي سَقْيِ كُلِّ كَبِدٍ (وَفِي لَفْظٍ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ) حَرَّاءَ أَجْرٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس بیماری میں گیا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوالات پوچھنے شروع کئے، یہاں تک کہ مجھے اب یاد نہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا کیا پوچھتا رہا، ایک نے کہا: کوئی سوال تو یاد کرو اور ہمیں بتاؤ، انھوں نے کہا:میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا کہ اے اللہ کے رسول! ایک گم شدہ جانور میرے اُس حوض پر آتا ہے، جس کو میں نے اپنے اونٹوں کے لیے بھر رکھا ہوتا ہے، اگر میں اسے پانی سے سیراب کرتا ہوں تو کیا مجھے اس کا اجر ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! ہر پیاس سے جلنے والے جگر کی پیاس بجھانے سے اجر ملتا ہے۔