حدیث نمبر: 7436
أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ قَالَ فَطَفِقْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَا أَذْكُرُ مَا أَسْأَلُهُ عَنْهُ فَقَالَ اذْكُرْهُ قَالَ وَكَانَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ أَنْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الضَّالَّةُ تَغْشَى حِيَاضِي وَقَدْ مَلَأْتُهَا مَاءً لِإِبِلِي هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ أَنْ أَسْقِيَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فِي سَقْيِ كُلِّ كَبِدٍ (وَفِي لَفْظٍ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ) حَرَّاءَ أَجْرٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس بیماری میں گیا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوالات پوچھنے شروع کئے، یہاں تک کہ مجھے اب یاد نہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا کیا پوچھتا رہا، ایک نے کہا: کوئی سوال تو یاد کرو اور ہمیں بتاؤ، انھوں نے کہا:میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا کہ اے اللہ کے رسول! ایک گم شدہ جانور میرے اُس حوض پر آتا ہے، جس کو میں نے اپنے اونٹوں کے لیے بھر رکھا ہوتا ہے، اگر میں اسے پانی سے سیراب کرتا ہوں تو کیا مجھے اس کا اجر ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! ہر پیاس سے جلنے والے جگر کی پیاس بجھانے سے اجر ملتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … انسان توبہت اعلیٰ ہے، اسے سیراب کرنا تو مغفرت اور اجر کا باعث ہے ہی، لیکن یہ مغفرت اور اجر اور ثواب حیوانوں سے حسن سلوک کرتے ہوئے انہیں پانی پلائیں تو تب بھی حاصل ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7436
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17730»