الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ سَفْيِ الْمَاءِ وَالنَّهْي عَنْ مَنْعِ ما فَضَلَ مِنْهُ وَالتَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ باب: پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 7435
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَنْزِعُ فِي حَوْضِي حَتَّى إِذَا مَلَأْتُهُ لِأَهْلِي وَرَدَ عَلَيَّ الْبَعِيرُ لِغَيْرِي فَسَقَيْتُهُ فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیااور کہا:میں پانی کھینچ کر اپنے حوض میں ڈالتا ہوں اور اپنے گھر والوں کے لیے اس کو بھرتا ہوں، لیکن کسی دوسرے کے اونٹ آتے ہیں اور میں انہیں پلا دیتا ہوں، کیا مجھے اس کا اجر و ثواب ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک جگر والے یعنی ہر جاندار کو پانی پلانے کا اجر ملتاہے۔