الفتح الربانی
كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ سَفْيِ الْمَاءِ وَالنَّهْي عَنْ مَنْعِ ما فَضَلَ مِنْهُ وَالتَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ باب: پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 7434
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ فَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ سَقْيُ الْمَاءِ قَالَ فَتِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ماں وفات پا گئیں اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میری ماں وفات پا چکی ہے، کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل۔ میں نے کہا: کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی سے سیراب کرنا افضل صدقہ ہے۔ پس انہوں نے ایک کنواں کھدوا دیا، جو مدینہ میں آل سعد کے نام سے مشہور تھا۔